بدھ 21 جنوری 2026 - 15:48
حضرت یونس علیہ السلام کتنی مدت مچھلی کے پیٹ میں رہے؟

حوزہ/ حضرت یونسؑ کی داستان ایک ایسی روحانی سفرکی داستان ہے جو اللہ کے پیغام سے شروع ہوکر ایک حیرت انگیز آزمائش تک پہنچتی ہے، جو ایمان، توبہ اور خداوند کی حکمت کے گہرے حقائق کو ظاہر کرتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اللہ کے برگزیدہ نبی حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی ایمان و تسلیم کی عظیم داستان ہے۔ آپ کی زندگی کا وہ واقعہ جو امتوں کے لیے ہمیشہ عبرت و نصیحت کا سامان بنا، اس تحریر میں آپ کی زندگی اور آزمائش پر مختصر روشنی ڈالیں گے ۔

حضرت یونس علیہ السلام: اللہ کی حکمتوں سے بھری ہوئی داستان

اللہ کے برگزیدہ نبی حضرت یونس علیہ السلام کو تاریخ کے انتہائی حیرت انگیز امتحانوں میں سے ایک سے گزرنا پڑا۔ جب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی قوم کی ہدایت کا فریضہ سونپا گیا تو قوم کی نافرمانی دیکھ کر آپ نے وہاں سے چلے جانے کا فیصلہ کیا۔

لیکن اللہ تعالیٰ، جس کی حکمتیں لامحدود ہیں، نے اپنے اس پیارے نبی کے لیے ایک عظیم واقعہ مقدر کر دیا تاکہ آپ کو ایمان و تسلیم کے ایک اعلیٰ مقام پر فائز کر سکیں۔

کشتی کا سفر اور دریا میں عظیم آزمائش

حضرت یونس علیہ السلام جب کشتی میں سوار ہو کر سمندر کے سفر پر روانہ ہوئے تو اچانک ایک زبردست طوفان آیا اور ایک دیوہیکل مچھلی نے کشتی کو گھیر لیا۔ سفر کرنے والے مسافر اس واقعے سے گھبرا گئے اور اسے اللہ کی طرف سے نشانی سمجھ کر اپنے درمیان کسی گناہگار کی تلاش میں لگ گئے۔

حضرت یونس علیہ السلام، جو اپنے آپ کو اللہ کے سامنے قصوروار سمجھتے تھے، نے ان سے کہا کہ مجھے دریا میں پھینک دو تاکہ کشتی اس خطرے سے بچ جائے۔ تین بار قرعہ اندازی ہوئی اور ہر بار حضرت یونس ہی کا نام نکلا۔ آخرکار انہیں دریا میں پھینک دیا گیا جہاں اللہ کے حکم سے ایک بہت بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا۔

لیکن یہ نگلنا ہلاکت کے لیے نہیں تھا، کیونکہ اللہ نے حکم دیا تھا: "نہ اس کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ اس کے جسم کو کوئی نقصان پہنچانا"۔ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی لامحدود قدرت اور رحمت کی واضح دلیل ہے، اسی اللہ نے جس نے ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والی بنا دیا تھا۔

مچھلی کے پیٹ میں زندگی اور اندھیرے میں عبادت

حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں، رات کی تاریکیوں، سمندر کی گہرائیوں اور مچھلی کے اندرونی ماحول کے درمیان اللہ کی عبادت اور مناجات میں مصروف ہو گئے۔ اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں رجوع کیا اور دل کی گہرائیوں سے یہ دعا پڑھی: "لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ" ("تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا")

حضرت یونس کا مچھلی کے پیٹ میں قیام کی مدت کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں: بعض روایات میں 9 گھنٹے بتائی گئی ہے، جبکہ بعض میں 40 دن رات کا ذکر ہے۔

لیکن یہ مدت جو بھی رہی ہو، یہ ایک عظیم آزمائش اور الہٰی معجزے کی واضح دلیل ہے۔ وہ اللہ جو اپنے بندوں کو انتہائی مشکل حالات میں بھی محفوظ رکھنے پر قادر ہے، اسی نے یونس علیہ السلام کو اس حیرت انگیز قید سے نجات بخشی۔

مچھلی کے پیٹ سے نجات اور قوم کی طرف واپسی

حضرت یونس علیہ السلام کی سچی دعاؤں اور توبہ کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ساحل پر اگل دے۔ اس سخت آزمائش سے گزرنے کے بعد آپ کا جسم نہایت کمزور ہو چکا تھا، مگر اللہ کے فضل و کرم سے آپ کو ایک خاص درخت کے سایہ میں شفا نصیب ہوئی۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے کدو کا ایک درخت اگایا جس نے آپ کو سایہ فراہم کیا اور اس کے پھل سے آپ کو غذا حاصل ہوئی، یوں آپ کی کھوئی ہوئی طاقت بحال ہوگئی۔

اس واقعے کے بعد جب حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کی طرف واپس تشریف لے گئے تو اس مرتبہ قوم نے جو اللہ کی نشانیاں دیکھ چکی تھی، آپ کی ہدایت پر ایمان لے آئی۔

اس سے ملنے والے اہم سبق: سچی توبہ اور دعا ہر مشکل میں کام آتی ہے، اللہ کا فضل ہر مشکل کے بعد آسانی لاتا ہے،اللہ اپنے بندوں کی بحالی کا اہتمام فرماتا ہے، مشکلات کے بعد فتح و کامیابی آتی ہے اور ثابت قدم رہنے والوں کو اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے

منبع: ویکی فقه/ پرسمان دانشگاهیان

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha